کوالالمپور2مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملائشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے شبہہ میں گرفتار کیے جانے والے شمالی کورین شہری کو رہا کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔اٹارنی جنرل محمد اپندی علی کا کہنا ہے کہ ری جانگ چول ایک ’آزاد شخص ہیں‘ کیونکہ ’ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے شواہد موجود نہیں تھے۔‘یاد رہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی 13 فروری کو ہلاک ہوئے تھے۔ کم جونگ نام کے چہرے پر ایک اعصاب شکن کیمیکل لگایا گیا تھا جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔اس سے قبل گذشتہ روز بھی ملائشیا میں حکام کا کہنا تھا کہ کم جونگ نام کی ہلاکت میں ملوث دو خواتین پر ان کے قتل کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ان دونوں خواتین کو ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پولیس کے خصوصی دستوں کی حفاظت میں عدالت میں لایا گیا۔ملائشیاکے اٹارنی جنرل محمد اپندی علی کے مطابق اگر یہ دونوں قصوروار پائی گئیں تو انھیں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔عدالت میں جب انھیں الزام پڑھ کر سنائے گئے تو ڈوان تھی ہیونگ نے کہا کہ ’میں الزامات سمجھتی ہوں لیکن میں قصوروار نہیں ہوں۔‘ملائشیا کو کئی شمالی کورین افراد جن میں ایک سفارتخانے کے اہلکار بھی شامل ہیں کی تلاش ہے جن پر کم جونگ نام کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا شبہہ ہے۔اس کے علاوہ جمعرات ہی کو ملائشیا نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شمالی کوریا سے آنے والوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت بھی ختم کرنے کااعلان کیاہے۔شمالی کوریا کے شہری اس سے قبل بنا ویزا لیے 30 دن کے لیے ملائشیا جا سکتے تھے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی برنامہ کے مطابق نائب وزیراعظم احمد زاہد حامدی نے کہا ہے کہ اب پیر چھ مارچ سے یہ ویزا پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔